پربودھنکر ٹھاکرے: Page 4 of 5

پھر بھی انہوں نے اس میں زبردست رول انجام دیا۔

 1926 ء کے گنیش آتسو کے موقع پر جب دادر میںاس بات پر اختلاف ہوا کہ گنیش پوجابرہمن کی بجائے کسی پچھڑی جاتی کے ھندو کے ہاتھوںسے ہو توبرہمن، غیر برہمن جھگڑا شروع ہوگیا، جس پر پربودھنکرٹھاکرے نے مسئلہ جلدی نہ سلجھا تو گنیش کی مورتی توڑنے تک کی دھمکی دے ڈالی۔ اس دھمکی کا اثر یہ ہواکہ بابا صاحب امبیڈکر نے معاملے میںافہام و تفہیم سے مسئلہ حل کیا اور یہ طئے پایا کی دلت ہاتھوں سے پھول دیا جائیگا جو برہمن گنیش کے قدموں میں ارپن کریگا۔ اس واقعے کے بعد سے یہ آتسو بند ہوگیا جسکا سیدھا الزام پربودھنکرٹھاکرے پر لگایا گیا۔ پربودھنکرٹھاکرے نے اس کا جواب دینے کیلئے ’ساروجنک نوراتری‘ کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک بحسن و خوبی جاری ہے۔             

 پربودھنکرٹھاکرے کو بہوجنوادی ہندوتوا کا کُل پُرش بھی کہا جاتا ہے۔ وہ من سے ہندوتوادی تھے اور فکر سے بہوجن وادی۔ انکا ہندوتواد نہ مسلمانوں کا دشمن تھا نہ ہی عیسائیوں کا۔ البتہ ہندوتواد کی آڑ میں برہمنی ایجنڈے کو بڑھاوا دینے سے انہیں نفرت تھی۔انکا سیاسی و مذہبی نظریہ بالکل واضح تھا،  اسی لئے زندگی بھر کانگریس اور ہندومہاسبھا دونوں سے برابر کی دوری بنائے رکھی ۔ ان کا ہندوتوا’’ گجانن رائو وید‘‘ کی ھندومشنری سوسائٹی کا پیرو تھا۔ اس سوسائٹی نے مذہب بیزارلوگوں کو دوبارہ مذہب پرست بنانے کا زبردست کارنامہ انجام دیا۔ لیکن غیر برہمن ہونے کیوجہ سے ان کی خدمات کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ پربودھنکرٹھاکرے نے اس سوسائٹی کیلئے بھی بہت کوششیں کیں، اور گائوں گائوں گھوم کر اس کا پرچار کیا۔ ناگپور ہندو سوسائٹی کے صدر بھی بنے۔

           پربودھنکرٹھاکرے کی طویل زندگی ان کی مختلف الجہت خدمات کا آئینہ ہے۔وہ ایک انشاء پرداز،صحافی،مدیر،ناشر،ڈرامہ نویس،تاریخ نویس،مصّور،آرٹسٹ،فوٹوگرافر،اداکار،فلم نویس کے ساتھ ساتھ سماجی رہنما،سیاسی مفکراوراصلاح پسند مذہبی دانشوربھی تھے۔ان کی تصانیف ہوںکہ ان کی تقریریں،ان کے ڈرامے ہوں کہ ان کی تحریکیں سب کا دائرہ سماجی اصلاح سے تھا۔

           ان کی تحریر کردہ کتابوں میںکوڈانڈاچے تناتکار،بھِکُشک شاہی چے بنڈ، دھرمنچے دیولے انڈی دیوانچے دھرم،گرامدھناچے اتہاس،کماریکانچے شاپ،وکتروتھواششتروغیرہ مراٹھی ادب میں قابل قدر اضافہ ہیں۔’’سارتھی‘‘،’’لوکھتواڑی‘‘ اور’’پربودھن‘‘ان کی صحافت کے بے مثال نمونے ہیں۔کھَرابرہمن اور’’ٹاکلیلے پور‘‘(لاوارث بچے) ’کالا چے کال ، سنگیت ودشینشدہ جیسے ڈراموں نے مراٹھی تھیٹرمیں ہنگامہ برپاکردیا۔  انہوں نے کئی سوانحِ حیات بھی تحریر کیں ہیں، جن میں پنڈتہ رمابائی سرسوتی، شری سنت گاڈگے بابا اور کرمویر بھائو رائو پاٹل کی زندگیوں پر لکھی بائیوگرافیاں قابل ذکر ہیں۔لیکن انکی سب سے ممتاز سوانح حیات انکی آپنی آپ بیتی ہے۔ ’’ ماجھی جیون گاتھا‘‘مراٹھی زبان کی بہترین سوانح سمجھی جاتی ہے۔

 حملے کی تاک میں ا ٓپنے شکار کی جانب خونخوار نگاہوں سے دیکھتا ہوا ’’ شیر‘‘ جو شیو سینا کا نشان ہے، پربودھنکر کے ہاتھوں سے بنایا ہوا ہے۔’’ شیو سینا ‘‘  یہ نام بھی انہیں کا تجویذ کردہ ہے۔ ممبئی میں مراٹھی مانس کے روزگار کا مسئلہ بھی سب سے پہلے انہوں نے اٹھایا تھا اور انگریز سرکار سے، سرکاری نوکریوں میںمراٹھی عوام کو مناسب نمائندگی دلانے کی کوششیں بھی کیںتھیں۔ ’’مارمک‘‘ کے آغاز سے قبل جب بالا صاحب ٹھاکرے انگریزی  ہفت روزہ