پربودھنکر ٹھاکرے: Page 3 of 5

کے اس کام کے خلاف لکھنے سے نہیں چوکتا۔شاہو مہاراج نے بھی کئی بار پربودھنکرٹھاکرے کا امتحان لیااورہربارکھراثابت ہونے پر اپنے اعتمادکی مہرلگاتے ہوئے کہاتھاکہ’’پربودھنکرٹھاکرے کو خریدپاناناممکن ہے‘‘۔

           شاہو مہاراج کے علاوہ کرم ویر بھائورائوپاٹل جو جدید مہاراشٹر کے بانیوں میں تصور کئیے جاتے ہیں ، پربودھنکرٹھاکرے کونہ صرف اپنا استاد مانتے تھے بلکہ اپنے تعلیمی مشن میں انہیں اپنا شریک کار سمجھتے تھے ۔

 پربودھنکرٹھاکرے بھی  بھاؤ راؤ پاٹل کی تعلیمی تحریک میں انکی بھر پور معاونت کرتے تھے ۔ بھاؤ راؤ پاٹل نے جب پچھڑی جاتی کے لوگوںکیلئے بورڈنگ اسکول قائم کرنے کا ارادہ کیا تو اسکے لئے  ہریجن فنڈ سے ڈونیشن حاصل کرنے کیلئے مہاتما گاندھی کے پاس پربودھنکرٹھاکرے ہی لے گئے تھے اور ایک عرصے تک یہاں سے ہزار روپے سالانہ بطور امداد دلاتے رہے ۔ اسکے باوجود مہاتما گاندھی کو بھی موقع بہ موقع اپنے قلم کا نشانہ بناتے رہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ کانگریسی نہ ہوتے ہوئے بھی کئی موقعوں پر مہاتما گاندھی کا ساتھ دیا ۔ اکولہ میں گاندھی جی کی ایک مجلس کو جب سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی تب پربودھنکرٹھاکرے نے ہی گاندھی جی کو جلسگاہ تک پہنچایا اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ ناتھو رام گوڈسے کے اخبار میں جب مہاتما گاندھی کو تضحیک آمیز انداز میں مخاطب کرتے ہوئے محض’’ مسٹر‘‘ لکھا گیا تو احتجاجاً اس اخبار میں لکھنا بند کر دیا ۔

           یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پربودھنکر ٹھاکرے کی لڑائی ان برہمنوں سے ہرگزنہیں تھی جوانسان دوست اورمساوات کے ماننے والے تھے۔ان کا مقبول عام ڈرامہ’’کَھرابرہمن‘‘(سچّابرہمن)ان کے خیالات کی ترجمانی کرتاہے جوسنت ایکناتھ کی شخصیت کو اُجاگر کرتاہے۔اسمیں سچے برہمن کی قدر کی گئی ہے۔اسی طرح مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد جو کے ایک برہمن نے کیاتھا، ملک بھر میں اورخصوصاً مہاراشٹر میںجب برہمنوں کا جینا دوبھرکیا جارہاتھا تب پربودھنکرٹھاکرے نے اپنے علاقے کے برہمنوں کی حفاظت خود کی۔

           پربودھنکرٹھاکرے نے جب ممبئی کو اپنامسکن بنایاتو یہاں بھی خاموش نہیںرہے بلکہ سماج میں ناسور کی طرح پھیل چکی جہیز کی بیماری کے خلاف ایک زبردست تحریک شروع کی۔اپنے ہم خیال افراد کے ساتھ ملکر’’جہیزمخالف دستہ‘‘تیارکیااوراس دستے نے پرزورطریقے سے جہیز کی رسم کے خاتمے کی کوشش کی۔نہ صرف شادی کے وقت جہیز پر پابندی کی بات کی بلکہ کئی موقعوں پر جن دولہے والوں نے جہیز وصول کرلیاتھاان سے چھین کر دوبارہ لڑکی والوں کودلانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔اس تحریک کا مقصد جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی ہزاروں عورتوں کی زندگی محفوظ کرناتھا۔اوراس کے خاطر خواہ نتائج ظاہر بھی ہوئے۔

           اپنی زندگی میں پربودھنکرٹھاکرے نے بہت سے کام انجام دیئے ۔ متحدہ ریاست مہاراشٹرکے قیام کی کوششوں میں ان کا حصہ،ان کے کاموںمیں ایک اہم کام تصور کیا جاتا ہے۔ریاست مہاراشٹر کے قیام کی تحریک کا جب بھی ذکرہوگا اُن کا نام آچاریہ آترے اورکامریڈ ڈانگے کے ساتھ یادکیاجائے گا۔اس تحریک میں مختلف الفِکر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنااورانہیں ایک پلیٹ فارم پرآنے کے لئے آمادہ کرنا،انہی کاکارنامہ ہے ۔سن ۱۹۵۰ء میں جب یہ تحریک شروع ہوئی تب تک ان کی عمر زیادہ ہوچکی تھی