پربودھنکر ٹھاکرے: Page 2 of 5

جگہ بنائی اورآخر میں بولنے اورلکھنے سے آگے خودعمل کرکے دکھایا ۔میدان عمل میں انہیں بہت سی دشواریوں کا سامناکرناپڑا۔اپنوں اورغیروں کی نکتہ چینی سَر راہ آئی۔حوالات میں بند رہناپڑا،مگرہرمصیبت،ہرپریشانی ان کے حوصلو ں کوا‎‎ورزیادہ مضبوط کرتی گئی ۔

             پربودھنکر ٹھاکرے کے قلم کا سفر پنویل میں سکونت کے دوران ہی شروع ہوا۔ کرمنک اور ودیارتھی جیسے  ہفت روزہ اخبارات میں مضامین شائع ہونے لگے ۔پھر جلگائوںسے اپنا ذاتی اخبار ’سارتھی، شروع کیا جو سال بھر تک کامیابی سے چلتا رہا۔ اور پھر وہ وقت آیا جب انہوں نے ’پربودھن، نامی  ہفت روزہ اخبار نکالا۔ 18  ٔاکتوبر ۱۹۲۱ء کو شروع ہونے والے اس اخبار نے مراٹھی صحافت میںایک انقلاب برپا کر دیا۔ یہ اخبار اس دور میں منظر عام پر آیا جب سرکاری ملازموں کو اخبار نکالنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن پربودھنکر ٹھاکرے کی برہمنواد مخالف پالیسی فرنگی سامراج کے حق میں تھی اسلئے انہیں خصوصی پرمیشن عنایت کی گئی۔پھر بھی انگریز حکومت کی پشت پناہی کا الزام نہ آجائے اس واسطے پربودھنکر ٹھاکرے نے سرکاری نوکری سے استعٰفی دے دیا۔,پربودھن، کی زبان آسان اور عام فہم تھی مگر اس کا انداز بہت ہی راست  اور پڑھنے والے کے تن بدن میں آگ لگا دینے والا تھا۔ وہ اپنے تبصروں میں نہ صرف چکوٹی کاٹتے بلکہ سامنے والے کو مجروح تک کر دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ انداز لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ جلد ہی , پربودھن، مراٹھی زبان کا مقبول تر اور کثیرالاشاعت اخبار بن گیا۔ یہ اخبار چھ سال تک باقائدگی سے نکلتارہا اور اس نے بہوجنوادی فکر کی صحافت کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔ پربودھن اتنا معروف اخبا ر تھا کہ لوگ کیسو سیتارام کا نام بھول کر انہیں پربودھنکر ٹھاکرے کے نام سے بلانے لگے۔ وہی نام بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔  اسی دوران پربودھنکر ٹھاکرے نے  پونے سے , لوک ہت وادی نامی  ہفت روزہ ا خبار بھی جا ری کیا۔

              پربودھن کے بند ہونے کے بعد انہوں نے کوئی ذاتی اخبار نہیں نکالا۔ البتہ مراٹھی کے مختلف روزناموں،  ہفت روزوں اور رسالوں میںبلاناغہ مضامین لکھتے رہے۔  مالتی تندولکر کے’’ پرتود‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ کامگار سماچار، اگرنڑیہ، وجئے مراٹھا، قندیل جیسے اخبارات کے علاوہ نوامنو، پوڈھاری، نواکال، لوکمانیہ اور بات مدار میں مستقل لکھتے رہے۔  آخری دنوں میں خاص طور پرصرف ’’ مارمک‘‘ کیلئے کالم لکھتے تھے۔

             پربودھنکر ٹھاکرے چھترپتی شاہو مہاراج سے اور مہاراج  ان سے بہت متاثر تھے۔پربودھنکر ٹھاکرے شاہو مہاراج کے ساتھ گائوں گائوں گھوم کر برہمنواد کی مخالفت میں جٹے رہے ۔ جس جگہ قیام کرتے وہاں کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرتے اورموجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے۔ برہمنوں کے اخبارات میں بہوجن مخالف اشاعتوں اور تنقیدی مضامین کا اسی انداز میں جواب دینے کیلئے شاہو مہاراج کو بھی تیکھا اور منجھا ہوا قلمکار مطلوب تھا، چنانچہ پربودھنکر ٹھاکرے سے زیادہ اور کون اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا تھا۔پربودھنکر ٹھاکرے کی طنزیہ اور بیباک تحریروں کی وجہ سے ہی شاہو مہاراج انہیں،دھنش، پکارتے تھے۔ شاہو مہاراج سے اتنی قربت کے بعد بھی، جب کبھی وہ محسوس کرتے کہ مہاراج کے قدم کہیں ڈگمگائے، ان کا قلم مہاراج